ہم ہیں بے فیض ادیبوں کے ادھورے مصرعے
اور تو میر کے دیوان سا چھایا ہوا شخص
نعمان حافظ
کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے
کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے
ہم ورنہ کوئی عقدۂ دشوار نہیں تھے
صد حیف کہ دیکھا ہے تجھے دھوپ سے بے کل
افسوس کہ ہم سایۂ دیوار نہیں تھے
ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں
ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے
سچ یہ ہے کہ اک عمر گزاری سر مقتل
ہم کون سے لمحے میں سر دار نہیں تھے
مانا کہ بہت تیز تھی رفتار حوادث
ہم بھی کوئی گرتی ہوئی دیوار نہیں تھے
یہ اس کی عنایت ہے کہ اپنا کے تمہیں شوقؔ
وہ زخم دیے جن کے سزاوار نہیں تھے
اختر رضی شوق
روتے روتے
ہنسی نہیں جاتی
آنکھیں
ساقی کی جب سے دیکھی ہیں
ہم سے دو
گھونٹ پی نہیں جاتی
کبھی ہم
بھی تڑپ میں بجلی تھے
اب تو کروٹ
بھی لی نہیں جاتی
ان کو سینے
سے بھی لگا دیکھا
ہائے دل کی
لگی نہیں جاتی
بات کرتے
وہ قتل کرتا ہے
بات بھی جس
سے کی نہیں جاتی
آپ میں آئے
بھی تو کیا آئے
لذت بے
خودی نہیں جاتی
ہیں وہی
مجھ سے کاوشیں دل کی
دوست کی
دشمنی نہیں جاتی
ہو گئے
پھول زخم دل کھل کر
نہیں جاتی
ہنسی نہیں جاتی
جلیل مانک پوری
Adab waley presents
ہے آپ کے ہونٹوں پر جو مسکان وغيرہ
قربان گئے اس پہ دل وجان وغيرہ
بلي تو يو نہي مفت ميں بد نام ھوئي ہے
تھيلے ميں تو کچھ اور تھا سامان وغيرہ
بے حرص و غرض فرض ادا کيجئيے اپنا
جس طرح پولس کرتي ہے چالان وغيرہ
اب ہوش نہيں کوئي کہ بادام کہا ہے
اب اپني ہتھيلي پہ ہيں دندان وغيرہ
کس ناز سے وہ نظم کو کہہ ديتے ہيں نثري
جب اس کے خطا ہوتے ہيں اوزان وغيرہ
ہر شرٹ کي بشرٹ بنا ڈالي ہے انور
یوں چاک کيا ہم نے گريبان وغيرہ
انور مسعود
Adab waley presents
محبت کی جس کو خماری لگے
بیاہی بھی اس کو کنواری لگے
ہوئی عمر ستر بہتر مگر
غرارے میں گوٹا کناری لگے
حقیقت تو یہ ہے کہ باد سموم
جوانی میں باد بہاری لگے
جو بیٹھا ہے بگلا بھگت کی طرح
وہی ہم کو اصلی شکاری لگے
جو کھیلا ہلاکو نے چنگیز نے
وہ کھیل اب بھی دنیا میں جاری لگے
ادب میں بھی جاری خرید و فروخت
جسے دیکھو وہ بیوپاری لگے
سیاست میں ایسی اچھل کود ہے
کہ ہر ایک نیتا مداری لگے
یہ غربت یہ فاقوں کا اک سلسلہ
ہمیں تو یہ روزہ ہزاری لگے
ہماری رعونت بھی کیا چیز ہے
کہ یاروں کو وہ خاکساری لگے
جو سمجھے محبت کو اک چاکلیٹ
یقیناً ہوس کا چساری لگے
نبھاؤں گا پکڑا ہے جب اس کا ہاتھ
کھٹارا لگے یا کھٹاری لگے
لگیں زہر ہم کو ظفرؔ والدین
مگر اپنی دلہن دلاری لگے
(ظفر کمالی)
ہم ہیں بے فیض ادیبوں کے ادھورے مصرعے اور تو میر کے دیوان سا چھایا ہوا شخص نعمان حافظ