Followers

Monday, 18 July 2022

 ہم ہیں بے فیض ادیبوں کے ادھورے مصرعے

اور تو میر کے دیوان سا چھایا ہوا شخص


نعمان حافظ

Friday, 10 June 2022

کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے

کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے

ہم ورنہ کوئی عقدۂ دشوار نہیں تھے

صد حیف کہ دیکھا ہے تجھے دھوپ سے بے کل

افسوس کہ ہم سایۂ دیوار نہیں تھے

ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں

ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے

سچ یہ ہے کہ اک عمر گزاری سر مقتل

ہم کون سے لمحے میں سر دار نہیں تھے

مانا کہ بہت تیز تھی رفتار حوادث

ہم بھی کوئی گرتی ہوئی دیوار نہیں تھے

یہ اس کی عنایت ہے کہ اپنا کے تمہیں شوقؔ

وہ زخم دیے جن کے سزاوار نہیں تھے


اختر رضی شوق

Friday, 13 November 2020

دل گیا دل لگی نہیں جاتی


دل گیا دل لگی نہیں جاتی

روتے روتے ہنسی نہیں جاتی

 

آنکھیں ساقی کی جب سے دیکھی ہیں

ہم سے دو گھونٹ پی نہیں جاتی

 

کبھی ہم بھی تڑپ میں بجلی تھے

اب تو کروٹ بھی لی نہیں جاتی

 

ان کو سینے سے بھی لگا دیکھا

ہائے دل کی لگی نہیں جاتی

 

بات کرتے وہ قتل کرتا ہے

بات بھی جس سے کی نہیں جاتی

 

آپ میں آئے بھی تو کیا آئے

لذت بے خودی نہیں جاتی

 

ہیں وہی مجھ سے کاوشیں دل کی

دوست کی دشمنی نہیں جاتی

 

ہو گئے پھول زخم دل کھل کر

نہیں جاتی ہنسی نہیں جاتی

 

جلیل مانک پوری


Adab waley presents

قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ


 ہے آپ کے ہونٹوں پر جو مسکان وغيرہ

قربان گئے اس پہ دل وجان وغيرہ


بلي تو يو نہي مفت ميں بد نام ھوئي ہے

تھيلے ميں تو کچھ اور تھا سامان وغيرہ


بے حرص و غرض فرض ادا کيجئيے اپنا

جس طرح پولس کرتي ہے چالان وغيرہ


اب ہوش نہيں کوئي کہ بادام کہا ہے

اب اپني ہتھيلي پہ ہيں دندان وغيرہ


کس ناز سے وہ نظم کو کہہ ديتے ہيں نثري

جب اس کے خطا ہوتے ہيں اوزان وغيرہ


ہر شرٹ کي بشرٹ بنا ڈالي ہے انور

یوں چاک کيا ہم نے گريبان وغيرہ


انور مسعود

Adab waley presents

Wednesday, 11 November 2020

محبت کی جس کو خماری لگے

محبت کی جس کو خماری لگے

بیاہی بھی اس کو کنواری لگے

ہوئی عمر ستر بہتر مگر

غرارے میں گوٹا کناری لگے

حقیقت تو یہ ہے کہ باد سموم

جوانی میں باد بہاری لگے

جو بیٹھا ہے بگلا بھگت کی طرح

وہی ہم کو اصلی شکاری لگے

جو کھیلا ہلاکو نے چنگیز نے

وہ کھیل اب بھی دنیا میں جاری لگے

ادب میں بھی جاری خرید و فروخت

جسے دیکھو وہ بیوپاری لگے

سیاست میں ایسی اچھل کود ہے

کہ ہر ایک نیتا مداری لگے

یہ غربت یہ فاقوں کا اک سلسلہ

ہمیں تو یہ روزہ ہزاری لگے

ہماری رعونت بھی کیا چیز ہے

کہ یاروں کو وہ خاکساری لگے

جو سمجھے محبت کو اک چاکلیٹ

یقیناً ہوس کا چساری لگے

نبھاؤں گا پکڑا ہے جب اس کا ہاتھ

کھٹارا لگے یا کھٹاری لگے

لگیں زہر ہم کو ظفرؔ والدین

مگر اپنی دلہن دلاری لگے


(ظفر کمالی)

 ہم ہیں بے فیض ادیبوں کے ادھورے مصرعے اور تو میر کے دیوان سا چھایا ہوا شخص نعمان حافظ