Followers

Friday, 13 November 2020

دل گیا دل لگی نہیں جاتی


دل گیا دل لگی نہیں جاتی

روتے روتے ہنسی نہیں جاتی

 

آنکھیں ساقی کی جب سے دیکھی ہیں

ہم سے دو گھونٹ پی نہیں جاتی

 

کبھی ہم بھی تڑپ میں بجلی تھے

اب تو کروٹ بھی لی نہیں جاتی

 

ان کو سینے سے بھی لگا دیکھا

ہائے دل کی لگی نہیں جاتی

 

بات کرتے وہ قتل کرتا ہے

بات بھی جس سے کی نہیں جاتی

 

آپ میں آئے بھی تو کیا آئے

لذت بے خودی نہیں جاتی

 

ہیں وہی مجھ سے کاوشیں دل کی

دوست کی دشمنی نہیں جاتی

 

ہو گئے پھول زخم دل کھل کر

نہیں جاتی ہنسی نہیں جاتی

 

جلیل مانک پوری


Adab waley presents

No comments:

Post a Comment

 ہم ہیں بے فیض ادیبوں کے ادھورے مصرعے اور تو میر کے دیوان سا چھایا ہوا شخص نعمان حافظ