Followers

Wednesday, 11 November 2020

محبت کی جس کو خماری لگے

محبت کی جس کو خماری لگے

بیاہی بھی اس کو کنواری لگے

ہوئی عمر ستر بہتر مگر

غرارے میں گوٹا کناری لگے

حقیقت تو یہ ہے کہ باد سموم

جوانی میں باد بہاری لگے

جو بیٹھا ہے بگلا بھگت کی طرح

وہی ہم کو اصلی شکاری لگے

جو کھیلا ہلاکو نے چنگیز نے

وہ کھیل اب بھی دنیا میں جاری لگے

ادب میں بھی جاری خرید و فروخت

جسے دیکھو وہ بیوپاری لگے

سیاست میں ایسی اچھل کود ہے

کہ ہر ایک نیتا مداری لگے

یہ غربت یہ فاقوں کا اک سلسلہ

ہمیں تو یہ روزہ ہزاری لگے

ہماری رعونت بھی کیا چیز ہے

کہ یاروں کو وہ خاکساری لگے

جو سمجھے محبت کو اک چاکلیٹ

یقیناً ہوس کا چساری لگے

نبھاؤں گا پکڑا ہے جب اس کا ہاتھ

کھٹارا لگے یا کھٹاری لگے

لگیں زہر ہم کو ظفرؔ والدین

مگر اپنی دلہن دلاری لگے


(ظفر کمالی)

No comments:

Post a Comment

 ہم ہیں بے فیض ادیبوں کے ادھورے مصرعے اور تو میر کے دیوان سا چھایا ہوا شخص نعمان حافظ