Followers

Wednesday, 11 November 2020


 اپنی جیسی ہی کسی شکل میں ڈھالیں گے تمہیں 

ہم بگڑ جائیں گے اتنا کہ بنا لیں گے تمہیں 

اپنی آنکھوں میں دُھواں کر کے تو مُشکل ہوگی

اپنے سینے پہ بحرحال بُجھا لیں گے تُمہیں

مجھ میں پیوست ہو تم یوں کہ زمانے والے 

میری مٹی سے میرے بعد نکالیں گے تمہیں 

فیصلہ کر ہی لیا  اگر ہم نے مِٹنے کا

کاسۂ جسم میں تھوڑا سا چُھپا لیں گے تُمہیں 

جانے کیا کچھ ہو چھپا تم میں، محبت کے سوا 

ہم تسلی کے لئے پھر سے کھگالیں گے تمہیں 

یہ زمیں کُچھ بھی نہیں اور جہاں کُچھ بھی نہیں

ہم اگر چاہیں تو اک جست میں جا لیں گے تُمہیں

ٹوٹ سکتا ہے بہت جلد یہ زندانِ بدن

تُم ہمیں چُھو لو تو ہم یوں بھی چُرا لیں گے تُمہیں

ہم نے سوچا ہے کہ اس بار جنوں کرتے ہوئے 

خود کو اس طرح سے کھو دیں گے کہ پا لیں گے تمہیں 

تُم سے اک جنگ تو لڑنی ہے، سو لڑتے ہُوئے ہم

اپنے خیمے میں کسی روز بُلا لیں گے تُمہیں


ابھیشیک شکلا

Adab waley presents

No comments:

Post a Comment

 ہم ہیں بے فیض ادیبوں کے ادھورے مصرعے اور تو میر کے دیوان سا چھایا ہوا شخص نعمان حافظ