Followers

Friday, 13 November 2020

دل گیا دل لگی نہیں جاتی


دل گیا دل لگی نہیں جاتی

روتے روتے ہنسی نہیں جاتی

 

آنکھیں ساقی کی جب سے دیکھی ہیں

ہم سے دو گھونٹ پی نہیں جاتی

 

کبھی ہم بھی تڑپ میں بجلی تھے

اب تو کروٹ بھی لی نہیں جاتی

 

ان کو سینے سے بھی لگا دیکھا

ہائے دل کی لگی نہیں جاتی

 

بات کرتے وہ قتل کرتا ہے

بات بھی جس سے کی نہیں جاتی

 

آپ میں آئے بھی تو کیا آئے

لذت بے خودی نہیں جاتی

 

ہیں وہی مجھ سے کاوشیں دل کی

دوست کی دشمنی نہیں جاتی

 

ہو گئے پھول زخم دل کھل کر

نہیں جاتی ہنسی نہیں جاتی

 

جلیل مانک پوری


Adab waley presents

قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ


 ہے آپ کے ہونٹوں پر جو مسکان وغيرہ

قربان گئے اس پہ دل وجان وغيرہ


بلي تو يو نہي مفت ميں بد نام ھوئي ہے

تھيلے ميں تو کچھ اور تھا سامان وغيرہ


بے حرص و غرض فرض ادا کيجئيے اپنا

جس طرح پولس کرتي ہے چالان وغيرہ


اب ہوش نہيں کوئي کہ بادام کہا ہے

اب اپني ہتھيلي پہ ہيں دندان وغيرہ


کس ناز سے وہ نظم کو کہہ ديتے ہيں نثري

جب اس کے خطا ہوتے ہيں اوزان وغيرہ


ہر شرٹ کي بشرٹ بنا ڈالي ہے انور

یوں چاک کيا ہم نے گريبان وغيرہ


انور مسعود

Adab waley presents

Wednesday, 11 November 2020

محبت کی جس کو خماری لگے

محبت کی جس کو خماری لگے

بیاہی بھی اس کو کنواری لگے

ہوئی عمر ستر بہتر مگر

غرارے میں گوٹا کناری لگے

حقیقت تو یہ ہے کہ باد سموم

جوانی میں باد بہاری لگے

جو بیٹھا ہے بگلا بھگت کی طرح

وہی ہم کو اصلی شکاری لگے

جو کھیلا ہلاکو نے چنگیز نے

وہ کھیل اب بھی دنیا میں جاری لگے

ادب میں بھی جاری خرید و فروخت

جسے دیکھو وہ بیوپاری لگے

سیاست میں ایسی اچھل کود ہے

کہ ہر ایک نیتا مداری لگے

یہ غربت یہ فاقوں کا اک سلسلہ

ہمیں تو یہ روزہ ہزاری لگے

ہماری رعونت بھی کیا چیز ہے

کہ یاروں کو وہ خاکساری لگے

جو سمجھے محبت کو اک چاکلیٹ

یقیناً ہوس کا چساری لگے

نبھاؤں گا پکڑا ہے جب اس کا ہاتھ

کھٹارا لگے یا کھٹاری لگے

لگیں زہر ہم کو ظفرؔ والدین

مگر اپنی دلہن دلاری لگے


(ظفر کمالی)


 اپنی جیسی ہی کسی شکل میں ڈھالیں گے تمہیں 

ہم بگڑ جائیں گے اتنا کہ بنا لیں گے تمہیں 

اپنی آنکھوں میں دُھواں کر کے تو مُشکل ہوگی

اپنے سینے پہ بحرحال بُجھا لیں گے تُمہیں

مجھ میں پیوست ہو تم یوں کہ زمانے والے 

میری مٹی سے میرے بعد نکالیں گے تمہیں 

فیصلہ کر ہی لیا  اگر ہم نے مِٹنے کا

کاسۂ جسم میں تھوڑا سا چُھپا لیں گے تُمہیں 

جانے کیا کچھ ہو چھپا تم میں، محبت کے سوا 

ہم تسلی کے لئے پھر سے کھگالیں گے تمہیں 

یہ زمیں کُچھ بھی نہیں اور جہاں کُچھ بھی نہیں

ہم اگر چاہیں تو اک جست میں جا لیں گے تُمہیں

ٹوٹ سکتا ہے بہت جلد یہ زندانِ بدن

تُم ہمیں چُھو لو تو ہم یوں بھی چُرا لیں گے تُمہیں

ہم نے سوچا ہے کہ اس بار جنوں کرتے ہوئے 

خود کو اس طرح سے کھو دیں گے کہ پا لیں گے تمہیں 

تُم سے اک جنگ تو لڑنی ہے، سو لڑتے ہُوئے ہم

اپنے خیمے میں کسی روز بُلا لیں گے تُمہیں


ابھیشیک شکلا

Adab waley presents

 ہم ہیں بے فیض ادیبوں کے ادھورے مصرعے اور تو میر کے دیوان سا چھایا ہوا شخص نعمان حافظ